یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی کانفرنس کی جانب سے انسانی تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ”پیغامِ فاس“ کا اجراء

اختتامِ کانفرنس کے موقع پر، شاہ محمد ششم کی سرپرستی میں:

یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی کانفرنس کی جانب سے انسانی تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ”پیغامِ فاس“ کا اجراء

پیغامِ فاس:
•  مصنوعی ذہانت انسانی ترقی کے فروغ کے لیے ایک بڑا موقع ہے، بشرطیکہ عالمی اقدار کا احترام کیا جائے۔ 
•  الگورتھم  میں موجود تعصبات سے متعلق چیلنجز کے پیشِ نظر بین الاقوامی ضابطہ جاتی فریم ورک ناگزیر ہیں۔ 
•  مصنوعی ذہانت عالمی تعلقات میں ایک اسٹریٹجک قوت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ 
•  سائبر سیکیورٹی، غلط معلومات اور نفرت انگیز بیانیے کے خطرات مؤثر نگرانی، پیشگی انتباہ اور بروقت ردِعمل کے نظام کے متقاضی ہیں۔ 
•  امن، پائیدار ترقی اور تہذیبوں کے مابین قربت کے فروغ کے لیے مصنوعی ذہانت کی سمت متعین کرنا ضروری ہے۔

فاس:
مملکتِ مراکش کے شہر ”فاس“میں شاہ محمد ششم کی زیرِ سرپرستی یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی میزبانی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ”مصنوعی ذہانت کے تناظر میں انسانی تہذیب کا مستقبل“ کے اختتام پر ”انسانی تہذیب اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں اعلامیہ فاس“ جاری کر دیا گیا۔ اس کانفرنس میں سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم  العیسی  نے  افتتاحی تقریب  میں مرکزی مقرر کی حیثیت سے شرکت  کی؛ جس میں عالمی شخصیات، اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبات کے اعلیٰ نمائندے اور 75 ممالک کے ممتاز ماہرینِ تعلیم و مفکرین سمیت 2000 سے زائد شرکاء موجود تھے۔

اعلامیہ  میں شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت انسانی ترقی کے لیے ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کی ترقی ایسے فریم ورک کے تحت ہونی چاہیے جو عالمی اقدار، انسانی وقار اور انصاف کے اصولوں کا احترام کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کی حکمرانی  کی بنیاد شفافیت، ذمہ داری، جوابدہی اور وضاحت پذیری پر ہونی چاہیے تاکہ ان ذہین نظاموں پر اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔

شرکاء نے اشارہ کیا کہ الگورتھم کے تعصب اور ڈیٹا کے معیار سے وابستہ چیلنجز کے لیے بین الاقوامی سطح پر موزوں اور ارتقاء پذیر ضوابط کی ضرورت ہے۔ نیز، طب اور دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے نئی راہیں کھل رہی ہیں، تاہم ڈیٹا کے تحفظ اور سائنسی معتبریت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام پر اعتماد کی بحالی کے لیے جانچ، آڈٹ اور نگرانی کے طریقہ کار کو انسانی پہلوؤں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔

اعلامیہ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت بین الاقوامی تعلقات میں ایک تزویراتی ستون ہے، جس کے لیے کثیر جہتی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے عدم توازن اور اجارہ داری کو روکا جا سکے، جس سے یہ ٹیکنالوجی چند ہاتھوں میں یرغمال نہ رہے۔

اسی طرح شرکاء نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی، پروپیگنڈے اور نفرت انگیز بیانات سے جڑے خطرات کے تدارک کے لیے مانیٹرنگ اور الرٹ کے فعال نظام تیار کیے جائیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ایسے ماڈلز تیار کرنے کی دعوت دی جو ثقافتی اور لسانی خصوصیات کا احترام کریں تاکہ ڈیجیٹل خود مختاری اور ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی ممکن ہو۔

شرکاء کے مطابق، نوجوانوں، انسانی سرمائے اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ایک ذمہ دارانہ اور جامع ڈیجیٹل مستقبل کی تعمیر کے لیے بنیادی رُکن ہے۔

اختتامی کلمات میں اس بات پر اعادہ کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کو امن، پائیدار ترقی اور تہذیبوں کے درمیان قربت کے لیے وقف کیا جائے۔

کانفرنس کے دوران چار عمومی نشستیں منعقد ہوئیں؛ پہلی نشست کا موضوع ”شفافیت، ذمہ داری اور اعتماد: مصنوعی ذہانت کے دور میں عالمی حکمرانی کی بنیادیں“، دوسری نشست ”شعبہ صحت میں مصنوعی ذہانت کے اطلاق اور اخلاقیات“، تیسری نشست ”مصنوعی ذہانت: مشترکہ انسانی اقدار کے احیاء کا موقع“، جبکہ چوتھی نشست ”مصنوعی ذہانت کے دور میں تہذیب کے مستقبل کے منظرنامے“ پر مشتمل تھی۔

علاوہ ازیں، پانچ متوازی نشستوں میں ”مصنوعی ذہانت کے دور میں بقائے باہمی“، ”مصنوعی ذہانت کی حکمرانی اور ترقی پر اس کے اثرات“، ”مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات: اصولوں سے تہذیبی تجربات تک“، ”مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کا انقلاب: مابعد جدیدیت کے دور میں سائبر سیکیورٹی، صحت اور سمارٹ شہر“ اور ”مصنوعی ذہانت اور خود مختار نظام: مستقبل کے شہروں کے لیے روبوٹس اور ذہین ڈھانچہ“ جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔

کانفرنس کے ضمن میں منعقدہ لیکچرز اور ملاقاتوں نے مجموعی طور پر اسے ایک اہم عالمی پلیٹ فارم بنا دیا، جہاں مصنوعی ذہانت کے نتیجے میں رونما ہونے والی گہری تبدیلیوں پر سنجیدہ مکالمہ اور اسٹریٹجک غور و فکر کیا گیا۔

یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی کانفرنس کی جانب سے انسانی تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ”پیغامِ فاس“ کا اجراء
یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی کانفرنس کی جانب سے انسانی تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ”پیغامِ فاس“ کا اجراء
یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی کانفرنس کی جانب سے انسانی تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ”پیغامِ فاس“ کا اجراء
یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی کانفرنس کی جانب سے انسانی تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ”پیغامِ فاس“ کا اجراء
یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی کانفرنس کی جانب سے انسانی تہذیب اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ”پیغامِ فاس“ کا اجراء
سنیچر, 2 May 2026 - 10:09